1 مارچ, 2020

    تم جاننا چاھو کہ میرے اندر ہے کون

    تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2020

    پچھلی رُت کے شوخ زمانے یاد آئے

    ناہید ورک کی اردو غزل
    17 اکتوبر, 2019

     اے چاند یہاں نہ نکلا کر

    جالب کی ایک انوکھی شاعری
    5 اپریل, 2020

    ایک ڈھونڈو ہزار بیٹھے ہیں

    جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل
    22 مئی, 2020

    استعارے کی کیا ضرورت ہے

    منزّہ سیّد کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2025

    تجھ فتنہ گر سے عرض

    ذیشان احمد خستہ کی ایک اردو غزل
    16 فروری, 2020

    آگ پانی میں لگا کر اسے بادل کر دوں

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    24 نومبر, 2019

    خواب کے روپ میں نہیں

    رحمان فارس کی ایک غزل
    3 ستمبر, 2024

    کھو جائے تو کہاں

    شبانہ یوسف کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    آستیں میں سانپ اک پلتا رہا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    8 فروری, 2020

    کام اگر حسب مدعا نہ ہوا

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    کماں بردوش و آہن پوش رہتا ​

    انور شعورکی ایک اردو غزل
    1 جنوری, 2022

    ماہِ نو کا پیام ہو جیسے

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    11 جنوری, 2026

    سمجھ سکے جو مری بات وہ کلام کرے

    امن شہزادی کی ایک اردو غزل
    29 نومبر, 2019

    مری حیات ہے بس رات کے اندھیرے تک

    انور شعورکی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button