26 جون, 2020

    شبنم سے کچھ نہیں ہے گل و یاسمن میں آب

    میر تقی میر کی ایک غزل
    3 مارچ, 2026

    میں اپنے عقب میں ہوں گلی ہے مرے پیچھے

    سعید شارق کی ایک اردو غزل
    26 اکتوبر, 2025

    ہیچ صحرا ہیچ ہم بازار بود

    فرید احمد کی ایک اردو غزل
    27 اپریل, 2025

    آنکھوں نے حال کہہ دیا

    ایک غزل از حکیم ناصر
    3 مارچ, 2022

    بات کے بیچ بول اٹھتے ہو

    محبوب کشمیری کی اردو غزل
    15 اکتوبر, 2025

    اگرچہ درد کے دل میں

    شاز ملک کی ایک اردو غزل
    4 جنوری, 2020

    کہیں تو گرد اُڑے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2025

    جس طرح سوچتا تھا میں

    محمد علی سوزؔ کی ایک اردو غزل
    23 دسمبر, 2025

    دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    7 مارچ, 2022

    سب کے سب تیری عقیدت کے در نظر آئے

    زروا رائے کی ایک اردو غزل
    7 اکتوبر, 2025

    رشتہ ء دل کبھی آزار بھی

    سیدہ صائمہ کامران کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    یہ رفتگی بھی ہوتی ہے جی ہی چلا گیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 اپریل, 2020

    جفا و جور کا اس سے گلہ کیا

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    11 مئی, 2020

    باغ سے جھولے اتر گئے

    اظہر فراغ کی ایک اردو غزل
    15 مئی, 2020

    پرند گھر پہ بلاتا ہوں

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button