آپ کا سلاماردو شاعریاردو غزلیاتصابر رضوی

گاؤں سے لایا تھا شناختی کارڈ

صابر رضوی کی ایک اردو غزل

گاؤں سے لایا تھا شناختی کارڈ
شہر میں کھو گیا شناختی کارڈ

بعد مرنے کے میرے کیسے میں
بچ گیا تھا مرا شناختی کارڈ

معبدوں میں بنایا جاتا ہے
میرے عنوان کا شناختی کارڈ

اس نے نقلی سمجھ کے نقل نہ کی
اصل میں اصل تھا شناختی کارڈ

سب کی تصویر ایک سی کر کے
فائلوں میں لگا شناختی کارڈ

میں بھی نعرہ زنوں میں شامل ہوں
میں نے بھی کھو دیا شناختی کارڈ

پھول پتھر مجھے بتاتے ہیں
کون رکھتا ہے کیا شناختی کارڈ

ایک تختی مری گواہی ہے
ایک پتھر مرا شناختی کارڈ

اس نے جب مجھ کو جان کر نہ دیا
میں نے بھی رکھ لیا شناختی کارڈ

علی صابر رضوی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button