8 اپریل, 2020

    میں اسے سوچتا رہا یعنی

    ایک اردو غزل از ادریس بابر
    24 مارچ, 2020

    تنہا فقط مجھے ہی رُلایا نہیں گیا

    ایک اردو غزل از سعد اللہ شاہ
    19 اکتوبر, 2025

    وحشتوں کا کبھی شیدائی نہیں تھا اتنا

    خاطر غزنوی کی ایک اردو غزل
    4 مئی, 2020

    تغافل ، بےنیازی کا گِلہ کافی نہیں ہے

    صائمہ آفتاب کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2025

    بس کار ِ محبت میں لپٹنا نہیں آتا

    کرن منتہیٰ کی ایک اردو غزل
    23 اپریل, 2020

    عرض ِ اَلم بہ طرز ِ تماشا بھی چاہیے

    جواد شیخ کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    دیا اس نے محبت کا جواب، آہستہ آہستہ

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    14 مئی, 2020

    یوں بھـــی اپنا دل بہـــــــــــلاتا رہتا تھا

    طارق جاوید کی ایک اردو غزل
    24 اکتوبر, 2025

    یہ لوگ کسی سے بھی رعایت نہیں کرتے

    زبیر خیالی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    سنبل تمھارے گیسوئوں کے غم میں لٹ گیا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    8 جنوری, 2022

    آج جن جھیلوں کا بس کاغذ میں نقشہ رہ گیا

    تہذیب حافی کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    مسلسل زلزلے ہیں چشمِ نم میں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    18 نومبر, 2020

    دوست بن کر بھی نہیں ساتھ نبھانے والا

    ایک اردو غزل از احمد فراز
    16 جنوری, 2020

    بہتر ہے خاک ڈالیے

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    23 مئی, 2020

    زندگی خوف سے تشکیل نہیں کرنی مجھے

    احمد خیال کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button