- Advertisement -

وہ عنایت اگر نہ کرجاتا

محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل

وہ عنایت اگر نہ کر جاتا
عین ممکن تھا آج مر جاتا

بات پگڑی سے بڑھ گئی آگے
جیسے حالات تھے یہ سر جاتا

چار سو وہ بلائیں تھیں توبہ
تم نہ آتے اگر تو ڈر جاتا

میں نے دل سے تمہیں پکار لیا
اتنی جلدی نہ نامہ بر جاتا

نور آنکھوں کا بجھ گیا ہوتا
یہ بھی ممکن تھا سارا گھر جاتا

محمد رضا نقشبندی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل