آپ کا سلاماردو غزلیاتسلیم فائزشعر و شاعری

وہ کہنے کو تو ہے میرا مسیحا

ایک اردو غزل از سلیم فائز

وہ کہنے کو تو ہے میرا مسیحا
مگر اس میں مسیحائی نہیں ہے

تماشا کس کو دکھلائیں ہنر کا
کوئی بینا تماشائی نہیں ہے

مجھے حاصل جہاں کی نعمتیں ہیں
مگر دل کو شکیبائی نہیں ہے

اٹھاؤ ناز و نخرے تتلیوں کے
بدن میں اب توانائی نہیں ہے

فدا ہونے سے کچھ پرہیز برتو
فدا ہونے میں دانائی نہیں ہے

خطا تسلیم کر لینا خطا پر
کسی بھی طور پسپائی نہیں ہے

جہاں آباد ہے کچھ اس طرح سے
میسر کنجِ تنہائی نہیں ہے

کہوں احوال کیسے دوسروں کے
مِری خود سے شناسائی نہیں ہے

سلیم فائز

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button