30 نومبر, 2021

    تمہارے ہوتے ہوئے جاں مری کو آیا دکھ

    منیر انجم کی ایک اردو غزل
    22 مارچ, 2020

    اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا

    ادا جعفری کی ایک غزل
    6 جولائی, 2025

    رو رہا ہوں میں

    محمد حذیفہ جلال کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    سوال کیسا ، جواب کیسا

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    27 جون, 2020

    تیرے ہوتے شام کو گر بزم میں آجائے شمع

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 اپریل, 2020

    ہزاروں راز پنہاں ہیں شعورِ خاک کے اندر

    اویس خالد کی ایک اردو غزل
    28 جنوری, 2020

    ابھی جذبۂ شوق کامل

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2020

    یوں تو وہ شکل کھو گئی گردش ماہ و سال میں

    خورشید رضوی کی ایک اردو غزل
    11 نومبر, 2025

    غم کی کِس شکل میں

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    25 اپریل, 2020

    مسلسل اشک افشانی سے پہلے

    عارف امام کی اردو غزل
    14 اکتوبر, 2025

    اُداسی دل میں بساۓ

    شاز ملک کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    یہ چوٹ کھائی ایسی دل پر کہ جی گنوایا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    11 جولائی, 2021

    میں اچها ہوں سلامت ہوں

    جاوید مہدی کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    ہم بیکسوں کا کون ہے ہجراں میں غم شریک

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    15 اپریل, 2020

    مرے ہم نفس مرے ہم زباں مرے مہرباں

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button