4 فروری, 2020

    یہ میز یہ کتاب یہ دیوار اور میں

    ذوالفقار عادل کی ایک اردو غزل
    17 دسمبر, 2021

    بیٹیاں

    محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل
    23 جون, 2020

    ندی کے اس پار کھڑا اک پیڑ اکیلا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    یاد آؤ نہ صبح و شام بہت

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    10 اکتوبر, 2025

    علم سے آگہی سے ڈرتے ہیں

    فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل
    10 جنوری, 2026

    خبر تو دور امین خبر نہیں آئے

    آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    فکر میں وحشتِ عمل کیا ہے

    لیاقت علی عاصم کی ایک اردو غزل
    11 جنوری, 2020

    نیند جب خواب کی زنبیل میں رکھی جائے

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی
    27 جون, 2020

    بیگانہ وضع برسوں اس شہر میں رہا ہوں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    8 جنوری, 2022

    دو چار دن ہے رونقِ بازار میرے دوست

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    12 اکتوبر, 2025

    ہر عیب چھپاتے ہیں

    فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    آرزوئے وصلِ جاناں میں

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    13 جون, 2020

    خواب بُنتا رہوں میں بستر پر

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    آئے گی نور کی بارات سفر کرتی ہوئی

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    28 اگست, 2025

    صدائے رفتگاں پھر دل سے گزری

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button