27 جون, 2020

    منعقد کاش مجلس مل ہو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    31 مئی, 2024

    سُن تو سہی شکستگی

    اکرم کنجاہی کی ایک اردو غزل
    18 مارچ, 2026

    دکھی دلوں کا سہارا جہاں میں کوئی نہیں

    شاہ دل شمس کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    اس شوخ سے سنا نہیں نام صبا ہنوز

    میر تقی میر کی ایک غزل
    19 جنوری, 2020

    جس نے ساری عمر کاٹی مفلسی کی قید میں

    ایک اردو غزل از ایوب صابر
    8 مارچ, 2025

    پودوں کا مسئلہ تو فقط

    ضمیر قیس کی ایک اردو غزل
    3 مارچ, 2022

    میں محبت ہوں تو محبت ہے

    صابر رضوی کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2021

    جوان رات کی مستی میں ناچنے والا

    کلیم باسط کی ایک اردو غزل
    19 دسمبر, 2019

    اے تغیر زمانہ یہ عجیب دل لگی ہے

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    9 نومبر, 2020

    بڑے تاجروں کی ستائی ہوئی

    اردو غزل از بشیر بدر
    14 مارچ, 2020

    عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین

    رحمان فارس کی ایک غزل
    22 جون, 2020

    صبح کا بھید ملا کیا ہم کو

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    13 جنوری, 2021

    چاند

    ایک اردو غزل از ریحانہ علی
    30 اپریل, 2020

    کچھ درد ہے مطربوں کی لے میں

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2019

    تُمھیں خبر ھی نہیں کیسے سر بچایا ھے

    ایک غزل از نوشی گیلانی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button