24 اپریل, 2020

    جب دُکھ یاد آئے , شعر کہا

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    15 مارچ, 2026

    یہ مری اَنا کی شکست ہے

    سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    جسدِ خاک اڑاتی رہی اِس طور ہَوا

    سمیر شمس کی اردو غزل
    15 اگست, 2020

    مِری وفا پر سوال کر کے

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    22 جون, 2020

    کچھ اس انداز سے اس فتنہ پرور کا پیام آیا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    چھاتی جلا کرے ہے سوز دروں بلا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    1 دسمبر, 2019

    دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا

    اردو غزل از احمد راہی
    29 جون, 2020

    تجھ سے بچھڑوں گا ترے دھیان میں رہ جاؤں گا

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے

    اختر عثمان کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    کچھ بات ہے کہ گل ترے رنگیں دہاں سا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 مارچ, 2025

    خمارِ شب میں

    ایک غزل از منیر نیازی
    23 جنوری, 2020

    پھر کسی حادثے کا در کھولے

    آسناتھ کنول کی ایک اردو غزل
    11 دسمبر, 2019

    وہ اہلِ حال

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    8 مارچ, 2026

    میں خوش ہوا کہ بود میں رکھا گیا مجھے

    فقیہ حیدر کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    بات دیدہ کہیں شنیدہ کہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button