22 مئی, 2020

    حق مہر کتنا ہوگا، بتایا نہیں گیا

    فرحت زاہد کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    سرِ بامِ تمنا مشعلِ مژگاں جلا بیٹھے

    اختر عثمان کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    جو تمہارے حضور ہوتا ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    10 جنوری, 2026

    گھروندے خوابوں کے

    آشفتہ چنگیزی کی ایک اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    آواز کس نے دی مجھے

    فوزیہ شیخ کی ایک اردو غزل
    28 جنوری, 2020

    توڑ کے سحر یادِ گزشتہ

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2021

    شَفَقِ بے کنار پھیل ذرا

    ایک غزل از عامر ابدال
    3 دسمبر, 2019

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

    محسن نقوی کی اردو غزل
    8 جون, 2020

    مرے وجود کو موجودگی دکھاتی تھی

    فیضان ہاشمی کی ایک اردو غزل
    13 فروری, 2020

    یاد ہم دشت نوردوں کی نشانی رکھنا

    صدیق صائب کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    جس طرف بھی ترا خیال گیا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

    آصف الدولہ کی ایک اردو غزل
    1 اپریل, 2020

    جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے

    احمد فراز کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2021

    وقت کی آگ میں جل سکتا ہے

    منیر انجم کی ایک اردو غزل
    28 جنوری, 2026

    صبا اس سے کہہ دو مجھے اب نہ مانگے

    سردار حماد منیر کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button