30 جون, 2020

    کس فتنہ قد کی ایسی دھوم آنے کی پڑی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 دسمبر, 2025

    اللہ اگر توفیق نہ دے

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    17 دسمبر, 2019

    التماس

    مجید امجد کی ایک اردو غزل
    17 ستمبر, 2022

    دل کو یہ روگ تیرے لگانے سے آ لگا

    سید عدید کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    پندگو مشفق عبث میرا نصیحت گر ہوا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    25 جولائی, 2022

    ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا

    افتخار عارف کی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    فن ایسا ہو کہ کوزے میں

    فیاض ڈومکی کی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    یار قصہ بڑا ہے پنجرے کا

    مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    دعا آثار شمعیں دے گیا ہے

    ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا
    15 اپریل, 2020

    مرے ہم نفس مرے ہم زباں مرے مہرباں

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    عجیب کرب میں گزری

    محسن نقوی کی اردو غزل
    22 جون, 2020

    ہم پوچھ سکے نہ حال تیرا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    18 فروری, 2020

    کتابِ زندگی کو کون دیکھے

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    24 فروری, 2022

    چاکِ خیال جوڑ کے کچھ اور ہی بنا

    صابر رضوی کی ایک اردو غزل
    5 مارچ, 2025

    ہمیں بے غرَض تری چاہتیں

    حنا بلوچ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button