اردو غزلیاتانور شعورشعر و شاعری

ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے​

انور شعورکی ایک اردو غزل

ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے​
آج کل ہیں وہ یاد آئے ہوئے​
​
میں نے راتیں بہت گزاری ہیں​
صرف دل کا دیا جلائے ہوئے​
​
ایک اُسی شخص کا نہیں مذکور​
ہم زمانے کے ہیں ستائے ہوئے​
​
سونے آتے ہیں لوگ بستی میں​
سارے دن کے تھکے تھکائے ہوئے​
​
مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ​
نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے​
​
گو فلک پہ نہیں، پلک پہ سہی​
دو ستارے ہیں جگمگائے ہوئے​
​
الوداعی مقام تک آئے​
ہم نظر سے نظر ملائے ہوئے​
​
اے شعورؔ اور کوئی بات کرو​
ہیں یہ قصّے سُنے سنائے ہوئے​

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button