- Advertisement -

کوئی سرگوشیوں سے کیوں بولے

فرزانہ نیناں کی اردو غزل

کوئی سرگوشیوں سے کیوں بولے
میری خاموشیوں سے کیوں بولے
میں خزاں رنگ ہوں ہمیشہ سے
جسم خوش پوشیوں سے کیوں بولے
در و دیوار تم بھی چپ رہتے
مصلحت کوشیوں سے کیوں بولے
سب کو یہ فکر ہے سرِ محفل
دل طرب جوشیوں سے کیوں بولے
سونا اپنی جگہ پہ سونا ہے
کھوٹ، زر پوشیوں سے کیوں بولے
ہے یہ بہتر حواس کھو جائیں
نیناں مدہوشیوں سے کیوں بولے

فرزانہ نیناں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
فرزانہ نیناں کی اردو غزل