اردو غزلیاتشعر و شاعریمحسن نقوی

عجیب کرب میں گزری

محسن نقوی کی اردو غزل

عجیب کرب میں گزری گزری، جہاں جہاں گزری
اگرچہ چاہنے والوں کے درمیاں گزری
​
تمام عمر چراغِ امید جلاتے رہے​
تمام عمر امیدوں کے درمیاں گزری
​
گذر گئی جو تیرے ساتھ وہ یادگار رہی​
بنا تیرے جو گزری، وبالِ جاں گزری​
​
مجھے سکوں میّسر نہیں تو کیا غم ہے​
گُلوں کی عمر تو کانٹوں کے درمیاں گزری
​
عجیب چیز ہے یہ گردشِ حالات "محسن”​
کبھی زمِیں تو کبھی مثلِ آسماں گزری ​

محسن نقوی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button