اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

صبح ہے کوئی آہ کر لیجے

میر تقی میر کی ایک غزل

صبح ہے کوئی آہ کر لیجے
آسماں کو سیاہ کر لیجے

چشم گل باغ میں مندی جا ہے
جو بنے اک نگاہ کر لیجے

ابر رحمت ہے جوش میں مے دے
یعنی ساقی گناہ کر لیجے

میر تقی میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button