اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

ہم کس کے جہاں میں بس رہے ہیں

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

ہم کس کے جہاں میں بس رہے ہیں
جینے کے لئے ترس رہے ہیں

گلشن میں انہیں بھی ہم نہیں یاد
جو ساتھ قفس قفس رہے ہیں

آئی ترے قہقہوں کی آواز
یہ پھول کہاں برس رہے ہیں

کس رنگ میں زندگی کو ڈھالیں
ہر رنگ مں ی آپ بس رہے ہیں

ہم سے بھی زمانہ آشنا ہے
ہم بھی ترے ہم نفس رہے ہیں

شبنم کی طرح اڑے ہیں باقیؔ
بادل کی طرح برس رہے ہیں

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button