اردو غزلیاتباقی صدیقیشعر و شاعری

نگار دشت کی جانب کوئی قدم اب تو

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

نگار دشت کی جانب کوئی قدم اب تو
ہجوم شہر میں گھٹنے لگا ہے دم اب تو

کھڑا ہوں دل کے دوراہے پہ ہاتھ پھیلائے
چھپائے چھپتے نہیں زندگی کے غم اب تو

نئے خیال نئے فاصلوں کے ساتھ آئے
نہ مل سکیں گے کسی راستے پہ ہم اب تو

مسافران محبت کا انتظار نہ کر
کہ دل میں آ گئے راہوں کے پیچ و خم اب تو

نکل گیا ہے سفینہ ترا کدھر باقیؔ
صدائیں آتی ہیں ساحل سے دم بہ دم اب تو

باقی صدیقی

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button