- Advertisement -

Wahan Mehfil Na Sajai

An Urdu Ghazal By Saleem Kausar

وہاں محفل نہ سجائی جہاں خلوت نہیں کی

اس کو سوچا ہی نہیں جس سے محبت نہیں کی

اب کے بھی تیرے لیے جاں سے گزر جائیں گے ہم

ہم نے پہلے بھی محبت میں سیاست نہیں کی

تم سے کیا وعدہ خلافی کی شکایت کرتے

تم نے تو لوٹ کے آنے کی بھی زحمت نہیں کی

دھڑکنیں سینے سے آنکھوں میں سمٹ آئی تھیں

وہ بھی خاموش تھا ہم نے بھی وضاحت نہیں کی

رات کو رات ہی اس بار کہا ہے ہم نے

ہم نے اس بار بھی توہین عدالت نہیں کی

گرد آئینہ ہٹائی ہے کہ سچائی کھلے

ورنہ تم جانتے ہو ہم نے بغاوت نہیں کی

بس ہمیں عشق کی آشقتہ سری کھینچتی ہے

رزق کے واسطے ہم نے کبھی ہجرت نہیں کی

آ ذرا دیکھ لیں دنیا کو بھی کس حال میں ہے

کئی دن ہو گئے دشمن کی زیارت نہیں کی

تم نے سب کچھ کیا انسان کی عزت نہیں کی

کیا ہوا وقت نے جو تم سے رعایت نہیں کی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
Mushaira Taqreeb In Kharianwali Faisalabad