اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

تجھ بن اے نوبہار کے مانند

میر تقی میر کی ایک غزل

تجھ بن اے نوبہار کے مانند
چاک ہے دل انار کے مانند

پہنچی شاید جگر تک آتش عشق
اشک ہیں سب شرار کے مانند

کو دماغ اس کی رہ سے اٹھنے کا
بیٹھے اب ہم غبار کے مانند

کوئی نکلے کلی تو لالے کی
اس دل داغدار کے مانند

سرو کو دیکھ غش کیا ہم نے
تھا چمن میں وہ یار کے مانند

ہار کر شب گلے پڑے اس کے
ہم بھی پھولوں کے ہار کے مانند

برق تڑپی بہت ولے نہ ہوئی
اس دل بے قرار کے مانند

ان نے کھینچی تھی صیدگہ میں تیغ
برق ابر بہار کے مانند

اس کے گھوڑے کے آگے سے نہ ٹلے
ہم بھی دبلے شکار کے مانند

زخم کھا بیٹھیو جگر پر مت
تو بھی مجھ دل فگار کے مانند

اس کی سرتیز ہر پلک ہے میر
خنجر آبدار کے مانند

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button