19 دسمبر, 2019

    کب سماں تھا بہار سے پہلے

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    20 ستمبر, 2020

    میں نہ رانجھا نہ مجھے ہیر کا دکھ

    اورنگ زیبؔ کی ایک اردو غزل
    28 جولائی, 2020

    بہروپئے!!!!!

    ڈاکٹر وحید احمد کی ایک اردو نظم
    12 نومبر, 2025

    یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم

    ایک غزل از حبیب جالب
    27 اپریل, 2025

    جب بھی جلے گی شمع

    ایک غزل از حکیم ناصر
    28 نومبر, 2019

    ہوا سے زلف و رخ میں

    میر حسن کی اردو غزل
    20 دسمبر, 2019

    ذرا کچھ اور قربت زیر داماں لڑکھڑاتے ہیں

    ایک اردو غزل از ساغر صدیقی
    11 ستمبر, 2020

    سمے سمے کی خلش میں ترا ملال رہے

    فرحت عباس شاہ کی اردو غزل
    15 جولائی, 2020

    دیپ جلتا ہوا دامن سے بجھایا ہم نے

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    27 جون, 2020

    دل لے کے کیسے کیسے جھگڑے مجادلے ہیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 ستمبر, 2025

    وہ جدا ہو گیا، دیکھتے دیکھتے

    روبینہ شاد کی ایک اردو غزل
    27 ستمبر, 2025

    خوابوں کی تعبیر نہیں ہے

    روبینہ شاد کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 جون, 2020

    سو خونچکاں گلے ہیں لب سے مری زباں تک

    میر تقی میر کی ایک غزل
    20 جون, 2024

    دنیا کا رنگ ہے

    یوسف عابدی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button