22 جون, 2025

    دل کی حالت سنبھل گئی ہے اب

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2020

    سبب کھلا یہ ہمیں اُن کے منہ چھپانے کا

    داغ دہلوی کی اردو غزل
    19 نومبر, 2019

    سوچتا ہوں كے اسے نیند بھی آتی ہوگی

    ایک غزل از وصی شاہ
    30 جون, 2020

    اگر مجبور ہفت افلاک ہوتا

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    18 اپریل, 2020

    جہان خواب مہرباں کی خیر ہو

    شمشیر حیدر کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    انکھڑیوں کو اس کی خاطر خواہ کیونکر دیکھیے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    12 جنوری, 2022

    جس کا ہونا میرا ہونا بنتا ہے

    ایک اردو غزل از منیر جعفری
    9 مارچ, 2020

    آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے

    غزل از اکبر الہ آبادی
    26 جون, 2025

    اگر مجھ سے محبت ہے

    ذیشان احمد خستہ کی ایک اردو غزل
    26 اگست, 2025

    کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    19 نومبر, 2019

    جمع تم ہو نہیں سکتے

    ایک غزل از وصی شاہ
    21 جون, 2020

    بات پر اپنی ہم جب آتے ہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 اپریل, 2025

    مےکشی گردش ایام سے

    ایک غزل از حکیم ناصر
    18 جون, 2020

    دل دیوانہ عرض حال پر

    قابل اجمیری کی اردو غزل
    21 مئی, 2020

    پھول جس کے لب و رخسار کے شیدائی ہیں

    سعید خان کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button