26 اگست, 2025

    پھر شامِ وصالِ یار آئی

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    11 جنوری, 2026

    اچھا خواب دکھایا تم نے

    امن شہزادی کی ایک اردو غزل
    15 مئی, 2020

    پرند گھر پہ بلاتا ہوں

    ایک اردو غزل از صغیر احمد صغیر
    21 جون, 2020

    ہم کہیں آئنہ لے کر آئے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    15 اکتوبر, 2025

    طلب کے خول سے دل

    شاز ملک کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2020

    بخش دینا سزا سے مشکل ہے

    عمران ڈین کی ایک اردو غزل
    27 اپریل, 2020

    جفا و جور کا اس سے گلہ کیا

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    دھب ہے ، کہنے سے یہ سب

    اختر عثمان کی ایک اردو غزل
    18 ستمبر, 2022

    تجھے خبر ہے تجھے ستاتا ہوں اس بنا پر

    تیمور حسن تیمور کی ایک اردو غزل
    11 مارچ, 2020

    اپنے سوا نہیں ہے کسی ماسوا کا رنگ

    لیاقت علی عاصم کی ایک اردو غزل
    23 اپریل, 2020

    تو کیا اِک ہمارے لیے ہی محبّت نیا تجربہ ہے ؟؟

    جواد شیخ کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    میں آئینہ ہوں وہ میرا خیال رکھتی تھی

    شاہد ذکی کی ایک اردو غزل
    18 مئی, 2025

    ایسا بھی کہیں دیکھا ہے

    ڈاکٹر فیصل شہزاد کی ایک اردو غزل
    9 اکتوبر, 2025

    سرد ہوا سی کیوں ہے

    فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل
    17 مارچ, 2026

    ہوش آنے کے بعد دودھ پیا

    اکرام عارفی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button