تیری آنکھوں کی طرف دیکھ کے ڈٹ جاتے ہیں
ورنہ ہم لوگ کناروں سے پلٹ جاتے ہیں
وقت اس موڑ پہ لے آیا ہے دونوں کو جہاں
فون ہوتے ہیں مگر رابطے کٹ جاتے ہیں
اس کی یکتائی میں پنہاں ہے کوئی راز جسے
ڈھونڈنے والے کئی فرقوں میں بٹ جاتے ہیں
ہچکیاں خون میں در آتی ہیں اور آخرکار
دل ترا سوگ مناتے ہوئے پھٹ جاتے ہیں
ساتھ چلتے ہوئے لوگوں کو نظر میں رکھنا
دور کے قافلے تعداد میں گھٹ جاتے ہیں
ان کی امید پہ اشکوں سے نہ دھو بیٹھنا ہاتھ
یہ جو بادل ہیں برے وقت پہ چھٹ جاتے ہے
جب بھی فرقت میں کڑی دھوپ ستائے ساجد
ہم تری یاد کے برگد سے لپٹ جاتبے ہیں
لطیف ساجد








