آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریلطیف ساجد

تیری آنکھوں کی طرف

لطیف ساجد کی ایک اردو غزل

تیری آنکھوں کی طرف دیکھ کے ڈٹ جاتے ہیں
ورنہ ہم لوگ کناروں سے پلٹ جاتے ہیں

وقت اس موڑ پہ لے آیا ہے دونوں کو جہاں
فون ہوتے ہیں مگر رابطے کٹ جاتے ہیں

اس کی یکتائی میں پنہاں ہے کوئی راز جسے
ڈھونڈنے والے کئی فرقوں میں بٹ جاتے ہیں

ہچکیاں خون میں در آتی ہیں اور آخرکار
دل ترا سوگ مناتے ہوئے پھٹ جاتے ہیں

ساتھ چلتے ہوئے لوگوں کو نظر میں رکھنا
دور کے قافلے تعداد میں گھٹ جاتے ہیں

ان کی امید پہ اشکوں سے نہ دھو بیٹھنا ہاتھ
یہ جو بادل ہیں برے وقت پہ چھٹ جاتے ہے

جب بھی فرقت میں کڑی دھوپ ستائے ساجد
ہم تری یاد کے برگد سے لپٹ جاتبے ہیں

لطیف ساجد

post bar salamurdu

لطیف ساجد

لطیف ساجد پانچ اگست انیس سو اسی کو ونیکے تارڑ حافظ آباد میں پیدا ہوئے، دو ہزار ایک میں بطورِ سولجر آرمی میں بھرتی ہوئے دو ہزار تین میں کمانڈو کورس کے بعد ایس ایس جی چلے گئے تین سال صدر پرویز مشرف کی پرسنل سیکورٹی میں ڈیوٹی کے یو این مشن افریقہ چلے گئے ریٹائرمنٹ کے بعد حافظ آباد ذاتی کاروبار کر رہے ہیں،بچپن سے شعر کہہ رہے ہیں دو ہزار اکیس میں پہلا شعری مجموعہ دعا زاد کے نام شائع ہوا جس شمار دور حاضر کے اہم شعری مجموعوں میں ہوتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button