- Advertisement -

جفا و جور کا اس سے گلہ کیا

مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل

جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا

وہ بے پروا جوابِ نامہ لکھے
خدا جانے کہ دشمن نے لکھا کیا

دیا کیوں ہونے اس بد خو پہ عاشق
ہمارا دوست کوئی بھی نہ تھا کیا

شمیمِ گل میں بوئے پیرہن ہے
غلط ہے یہ کہ احسانِ صبا کیا

نہ لکھنا تھا غمِ ناکامیِ عشق
جوابِ نامۂ بے مدعا کیا

ہمیں تھا آپ قصدِ عرضِ احوال
جو وہ خود پوچھتے ہیں پوچھنا کیا

تماشا ہے جلے گر خانۂ غیر
وہ کہتے ہیں کہ آہِ شعلہ زا کیا

فنائے عاشقاں عینِ بقا ہے
دیت زندوں کی کیسی، خون بہا کیا

اگر ہے بوالہوس تو قتل کر چک
عدو سے وعدۂ شوق آزما کیا

مصطفیٰ خان شیفتہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
ایک اردو کالم از محبوب صابر