اردو غزلیاتشعر و شاعریمصطفٰی خان شیفتہ

جفا و جور کا اس سے گلہ کیا

مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل

جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا

وہ بے پروا جوابِ نامہ لکھے
خدا جانے کہ دشمن نے لکھا کیا

دیا کیوں ہونے اس بد خو پہ عاشق
ہمارا دوست کوئی بھی نہ تھا کیا

شمیمِ گل میں بوئے پیرہن ہے
غلط ہے یہ کہ احسانِ صبا کیا

نہ لکھنا تھا غمِ ناکامیِ عشق
جوابِ نامۂ بے مدعا کیا

ہمیں تھا آپ قصدِ عرضِ احوال
جو وہ خود پوچھتے ہیں پوچھنا کیا

تماشا ہے جلے گر خانۂ غیر
وہ کہتے ہیں کہ آہِ شعلہ زا کیا

فنائے عاشقاں عینِ بقا ہے
دیت زندوں کی کیسی، خون بہا کیا

اگر ہے بوالہوس تو قتل کر چک
عدو سے وعدۂ شوق آزما کیا

مصطفیٰ خان شیفتہ

سائٹ ایڈمن

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button