29 جون, 2020

    ہمیشہ جیتنے والا کبھی تو ہارا بھی ہو

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    5 اکتوبر, 2025

    اُن کی گفتار کو سمجھتے ہیں

    بشریٰ سعید عاطف کی ایک اردو غزل
    29 ستمبر, 2019

    کبھی جو آنکھوں کے آ گیا آفتاب آگے

    حسن عباسی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    مت آنکھ ہمیں دیکھ کے یوں مار دیا کر

    میر تقی میر کی ایک غزل
    18 دسمبر, 2019

    دل جو ہے آگ لگا دوں

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    26 مارچ, 2020

    ستارے سے ستارا مل رہا ہے

    تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    عشق مجھ کو نہیں، وحشت ہی سہی

    ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
    15 اپریل, 2018

    نئے انداز سے تعمیر مجھے ہونا ہے

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    ہوا ہوں نیند سے بیدار حیرانی اٹھا کر میں

    ایک اردو غزل از بلال اسعد
    22 مئی, 2024

    ایسا نہیں کہ ان سے محبت

    خمار بارہ بنکوی کی ایک اردو غزل
    29 مارچ, 2020

    یہ عشق مجھ کو درحقیقت خوار کر گیا

    تہمینہ مرزا کی ایک اردو غزل
    16 جنوری, 2020

    حسنِ فردا غمِ امروز سے

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    8 جنوری, 2026

    اب تک مجھے نہ کوئی مرا رازداں ملا

    جمیل الدین عالی​ کی ایک اردو غزل
    7 دسمبر, 2025

    ہانی مرے خلاف ہے، چاکر مرے خلاف

    مظفرؔ ڈھاڈری بلوچ کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button