30 مئی, 2020

    نہ کوئی رنگ، نہ ہاتھوں میں حنا، میرے بعد

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    28 مئی, 2020

    باغ میں تُو اگر نہیں آتا

    بہنام احمد کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2020

    رہِ الفت کی ہر منزل ترے دم سے ہی سر ہو گی

    ناہید ورک کی اردو غزل
    30 نومبر, 2019

    عجیب خواب اور عجب خیال دیکھتے ہوئے

    ایک اردو غزل از رفیق لودھی
    20 دسمبر, 2019

    ان لوگوں میں رہنے سے ہم ، بے گھر اچھے تھے

    فیصل عجمی کی ایک اردو غزل
    10 نومبر, 2025

    میں اپنے آپ کو تنہائیوں میں رکھتا ہوں

    رشید حسرت کی ایک اردو غزل
    21 مئی, 2020

    آنکھ اس مہ جبیں پہ رہنے دو

    ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    ہنس کے فرماتے ہیں

    امیر مینائی کی اردو غزل
    8 جنوری, 2020

    کبھی تقصیر جس نے کی ہی نہیں

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    15 دسمبر, 2019

    گزر چکا ہے جو لمحہ وہ ارتقا میں ہے

    ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل
    10 مئی, 2020

    کسی کے ہجر میں یوں ٹوٹ کر رویا نہیں کرتے

    ایک اردو غزل از حسن عباس رضا
    24 اکتوبر, 2020

    تری مٹی میں مل سکتے ہیں

    تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2026

    ترے عشق میں زندگانی لٹا دی

    بہزاد لکھنوی کی ایک اردو غزل
    26 دسمبر, 2024

    ابھی پات جھڑنے کی رت

    فرح گوندل کی ایک اردو غزل
    8 اپریل, 2018

    وہ پیرہن جان میں جاں حجلۂ تن میں

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button