اردو غزلیاتشعر و شاعریقمر رضا شہزاد

جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے

قمر رضا شہزاد کی اردو غزل

جو زندگی کے ہر ایک دھارے میں جاگتا ہے

ترا بدن اس چراغ پارے میں جاگتا ہے

گریز کیسے کرے گا میرے وجود سے تو

کہ تیرا سورج مرے ستارے میں جاگتا ہے

مجھے خبر ہے خموش سویا ہوا یہ دریا

کہیں کسی دوسرے کنارے میں جاگتا ہے

بہت کٹھن تو نہیں ہے سچ کو تلاش کرنا

کہ یہ لہو کے ہر استعارے میں جاگتا ہے

وہ شخص یوں ہی نہیں مرے ساتھ چلنے والا

کہیں کوئی فائدہ خسارے میں جاگتا ہے

قمر رضا شہزاد

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button