25 جولائی, 2022

    سوال یہ تھا کہاں ملو گے

    محمد رضا نقشبندی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    زندگی حسن بام و در تو نہیں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2024

    عمر بھر درد کا جو

    اکرم کنجاہی کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    وہ نظر آئنہ فطرت ہی سہی

    اقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    8 دسمبر, 2017

    کیا یہی ہے جس پہ ہم دیتے ہیں جاں

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    6 دسمبر, 2019

    طاقچے میں پڑی ہوئی آنکھیں

    سعد ضؔیغم کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت

    ایک اردو غزل از اسداللہ خان غالب
    9 جنوری, 2022

    یہ کِس ڈھب کے اجالے ہو رہے ہیں

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    29 دسمبر, 2019

    دل کسی طرح بھی اس بات پہ تیار نہیں

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    31 مارچ, 2020

    وہ ملا تھا اور بس کچھ بھی نہیں

    ثمینہ گُل کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    دل قتیل ادا تھا پہلے بھی

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    کوئی چراغ عطا کر کوئی گلاب اتار

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    25 جون, 2020

    دیکھ آرسی کو یار ہوا محو ناز کا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    15 اگست, 2018

    جانے کیسا ہوا اثر مجھ پر

    شجاع شاذ کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    یاد جب آتی ہے وہ زلف سیاہ

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button