اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

دل کو لکھوں ہوں آہ وہ کیا مدعا لکھوں

میر تقی میر کی ایک غزل

دل کو لکھوں ہوں آہ وہ کیا مدعا لکھوں
دیوانے کو جو خط لکھوں بتلائو کیا لکھوں

کیا کیا لقب ہیں شوق کے عالم میں یار کے
کعبہ لکھوں کہ قبلہ اسے یا خدا لکھوں

حیراں ہو میرے حال میں کہنے لگا طبیب
اس دردمند عشق کی میں کیا دوا لکھوں

وحشت زدوں کو نامہ لکھوں ہوں نہ کس طرح
مجنوں کو اس کے حاشیے پر میں دعا لکھوں

کچھ روبرو ہوئے پہ جو سلجھے تو سلجھے میر
جی کے الجھنے کا اسے کیا ماجرا لکھوں

میر تقی میر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button