آپ کا سلاماردو نظمشعر و شاعریگلناز کوثر

بس ایک بوند زندگی

گلناز کوثر کی ایک اردو نظم

سو چپ رہو، سو مان لو

وہ کہہ رہے ہیں تم سے گر

تمہاری نرم سانس

اُن کی زندگی پہ بوجھ ہے

تو اپنی سانس گھونٹ لو

ابھی تمہارے ان بُنے وجود میں

دھرا بھی کیا ہے

ننھی ننھی دھڑکنیں

چلیں تو کیا

رُکیں تو کیا

سو چپ رہو، سو مان لو

ٹھہر نہیں سکے گی

تیز آندھیوں کے سامنے

یہ جگنوئوں سی روشنی

اٹل چٹان فیصلوں کی زد میں

ایک پھوٹتی ہوئی کلی

پکارتے ، چنگھاڑتے کڑے بھنور

کی راہ میں

بس ایک بوند زندگی

مجھے پتہ ہے ظلم ہے

مگر تمہیں خبر نہیں

تمہیں ابھی سے کیا خبر

کسی بھی ظلم ، درد ، گھاؤ،

موت اور زندگی کے ذائقے

تمہاری نرم دھڑکنوں نے

کچھ بھی تو سہا نہیں

حسین تتلیاں ، بہار ، پھول ، پیڑ ،

چھاؤں ، دھوپ،

پتیوں کے ، پانیوں کے سلسلے

تمہاری کوری سانس نے

کسی کو بھی چھوا نہیں

سو چپ رہو، سو مان لو

یہی وہ چاہتے ہیں گر

تمہیں مٹانے کے سوا

کوئی بھی راستہ نہیں

تو اُن کی بات مان لو

گلناز کوثر

گلناز کوثر

اردو نظم میں ایک اور نام گلناز کوثر کا بھی ہے جنہوں نے نظم کے ذریعے فطرت اور انسان کے باطن کو ہم آہنگ کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ گلناز کوثر کا تعلق لاہور سے ہے تاہم پچھلے کچھ برس سے وہ برطانیہ میں مقیم ہیں، انہوں نے اردو اور انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کی تعلیم بھی حاصل کی، البتہ وکیل کے طور پر پریکٹس کبھی نہیں کی۔ وہ نیشنل کالج آف آرٹس لاہور کے ریسرچ اینڈ پبلیکیشن ڈیپارٹمنٹ سے وابستہ رہیں، علاوہ ازیں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے عالمی ادب بھی پڑھایا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ دو ہزار بارہ میں ’’خواب کی ہتھیلی پر‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور ادبی حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ اشاعتیں

Back to top button