27 جون, 2025

    پیار جو اک حسین سپنا تھا

    محمد علی سوزؔ کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    اگرچہ خلدِ بریں کا جواب ہے دنیا

    ایک اردو غزل از احسان دانش
    27 اپریل, 2020

    ہائے اس برقِ جہاں سوز پر آنا دل کا

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    14 اپریل, 2020

    کسی کی بات کے زیرِ اثر نہیں آیا

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    1 جون, 2020

    سوچتے رہتے ہیں ہر دم جو ضرر کی باتیں

    ناہید ورک کی اردو غزل
    5 اپریل, 2020

    تمام عمر کا ہم کو یہی ثواب ہوا

    جیوتی آزاد کھتری کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    طپش سے رات کی جوں توں کے جی سنبھالا ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    31 اکتوبر, 2025

    کیا دن تھے کہ رہتا نہ تھا

    شہزاد نیّرؔ کی ایک خوبصورت غزل
    16 نومبر, 2021

    اس نے دریا کو بلایا جو اشارا کر کے

    افتخار شاہد کی ایک غزل
    28 جنوری, 2020

    ترے بعد جو خلا ہے

    ایک اردو غزل از اویس خالد
    27 جون, 2025

    جو گزر گیا وہ ملال ہے

    محمد شاہ زیب احمد کی ایک اردو غزل
    28 جنوری, 2020

    دل اب اُس کو ہار رہا ہے

    ایک اردو غزل از اویس خالد
    30 اپریل, 2020

    بچتے ہیں اس قدر جو اُدھر کی ہوا سے ہم

    مصطفیٰ خان شیفتہ کی ایک اردو غزل
    29 جون, 2020

    کسی چشم ہنر کی پاسبانی میں نہیں رہنا

    قمر رضا شہزاد کی اردو غزل
    20 ستمبر, 2019

    شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا

    ایک اردو غزل از مرزا غالب

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button