23 جون, 2020

    کوئی مختار اور کوئی مجبور

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    17 فروری, 2026

    ہم ایک ایسی اندھیر نگری سے

    لطیف ساجد کی ایک اردو غزل
    26 مئی, 2020

    اداسیوں کے عذابوں سے پیار رکھتی ہوں

    فرزانہ نیناں کی اردو غزل
    27 ستمبر, 2025

    چہرے کا رنگ، ہاتھ کی مہندی

    روبینہ شاد کی ایک اردو غزل
    25 جولائی, 2022

    کہتا نہیں ھے کوئی بھی سچ بات ان دنوں

    افتخار عارف کی ایک اردو غزل
    10 دسمبر, 2024

    آب کی دیوی

    شاکرہ نندنی کی ایک اردو غزل
    8 جنوری, 2020

    کس لئے پروانہ خاکستر ہوا

    اسماعیلؔ میرٹھی کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    بے انتہائی شیوہ ہمارا

    جون ایلیا کی ایک اردو غزل
    19 مئی, 2024

    اپنی فضا سے اپنے زمانوں سے

    امید فاضلی کی ایک اردو غزل
    18 دسمبر, 2019

    رنگ لایا ہے ہجوم ساغر و پیمانہ آج

    حسرت موہانی کی ایک اردو غزل
    21 مئی, 2020

    دریدہ تن ہی رہی جانب_رفو نہ گئی

    ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل
    6 جون, 2020

    اِن تیز رابطوں میں کہیں کھو گیا تو پھر

    شہزاد نیّرؔ کی ایک خوبصورت غزل
    30 نومبر, 2021

    جوان رات کی مستی میں ناچنے والا

    کلیم باسط کی ایک اردو غزل
    27 نومبر, 2019

    مر چلے ہم مر کے اُس پر مر چلے

    امیر مینائی کی اردو غزل
    6 جولائی, 2025

    رو رہا ہوں میں

    محمد حذیفہ جلال کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button