اردو غزلیاتشعر و شاعریمیر تقی میر

گرداب وار یار ترے صدقے جایئے

میر تقی میر کی ایک غزل

گرداب وار یار ترے صدقے جایئے
دریا کا پھیر پایئے تیرا نہ پایئے

سر مار مار بیٹھے تلف ہوجے کب تلک
ٹک اٹھ کے اب نصیبوں کو بھی آزمایئے

سو شکل سے ہم آئے گئے تیری بزم میں
طنزاً کہا نہ تو نے کبھو یوں کہ آیئے

آئے ہیں تنگ جان سے قیدحیات میں
اس بند سے ہمارے تئیں اب چھڑایئے

کہنے لگا کہ ٹیڑھے بہت ہو رہے ہو تم
دو چار سیدھی سیدھی تمھیں بھی سنایئے

ہے عزم جزم ترک و تجرد کا گر بنے
کیا اس جہان سفلہ سے دل کو لگایئے

تاثیر ہے دعا کو فقیروں کی میرجی
ٹک آپ بھی ہمارے لیے ہاتھ اٹھایئے

میر تقی میر

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button