4 جنوری, 2020

    گلوں کو سننا ذرا تم

    گلزار کی ایک اردو غزل
    15 اکتوبر, 2025

    مجھ کو عادت ہے زخم کھانے کی

    ثوبیہ نورین نیازی کی ایک اردو غزل
    24 جنوری, 2020

    موڑ موڑ گھبرایا گام گام دہلا میں

    ایک اردو غزل از جلیل عالی
    11 جنوری, 2026

    اچھا خواب دکھایا تم نے

    امن شہزادی کی ایک اردو غزل
    30 جنوری, 2020

    ہر جذبۂ غم کی تلخی میں

    شکیل بدایونی کی ایک اردو غزل
    4 اپریل, 2026

    ہوش والوں کو خبر کیا

    ندا فاضلی کی ایک اردو غزل
    26 جون, 2020

    ربط دل زلف سے اس کی جو نہ چسپاں ہوتا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    15 جنوری, 2020

    کہاں تلاش میں جاؤں کہ جستجو تو ہے

    ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2024

    تجھ کو غیروں سے

    یوسف عابدی کی ایک اردو غزل
    23 اگست, 2020

    لہو لہو سا منظر دکھائی ریتا ہے

    ایک اردو غزل از طلعت سروہا
    16 جنوری, 2020

    میری آنکھوں میں سجا ہے

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    24 مئی, 2020

    یوں سرِ شام تری یاد میں آنسو نکل آئے

    ایوب خاور کی اردو غزل
    28 دسمبر, 2019

    کبھی سراب کرے گا،کبھی غبار کرے گا

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    11 جنوری, 2020

    موت کبھی بھی مل سکتی ہے

    ساحر لدھیانوی کی ایک اردو غزل
    27 دسمبر, 2019

    وہ روشنی ہے سو اس کا حوالہ ایک نہیں

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button