1 نومبر, 2025

    بعض صدائیں ایسی ہیں

    عمران ہاشمی کی ایک اردو غزل
    20 دسمبر, 2022

    تجھ کو لگتا ہے عارضی دکھ ہے

    عاصمہ فراز کی اردو غزل
    11 فروری, 2020

    مرے چاند رک مری بات سن

    ایک اردو غزل از سلمیٰ سیّد
    19 اپریل, 2020

    حُسن کا یہ کمال ہے سائیں

    حسیب بشر کی ایک غزل
    27 جون, 2025

    گزر گئے پلوں کو اب

    محمد شاہ زیب احمد کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    تیرے افسانے سناتے ہیں مجھے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    12 جنوری, 2026

    اُڑنے کو ہوں میں تیار مگر

    رومانہ رومی کی ایک اردو غزل
    26 اکتوبر, 2025

    کہیں پہ گشت و گزر اور ہے وجُود کہیں

    فرید احمد کی ایک اردو غزل
    22 جون, 2025

    اپنی حالت کا مجھے دھیان

    ہمانشی بابرا کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2020

    اپنے بدن کی جھونپڑی میں، دل اکیلا تھا بہت

    فیضان ہاشمی کی ایک اردو غزل
    27 مئی, 2020

    اس کی نظر کو داد دو جس نے یہ حال کر دیا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    20 اکتوبر, 2025

    ہوا میں جلتے چراغ رکھنا

    ثمر راحت ثمر کی ایک اردو غزل
    6 جنوری, 2020

    جنوں تبدیلی موسم کا

    سلیم کوثر کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2024

    خود یہ فاقہ کش و نادار

    اکرم کنجاہی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    وہ شوخ ہم کو پائوں تلے ہے ملا کیا

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button