9 دسمبر, 2019

    غیروں پہ کھل نہ جائے کہیں راز دیکھنا

    مومن خان مومن کی ایک عمدہ غزل
    26 جون, 2020

    کیا کیا نہ ہم نے کھینچے آزار تیری خاطر

    میر تقی میر کی ایک غزل
    28 جون, 2020

    صبح ہے کوئی آہ کر لیجے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    27 جون, 2020

    گر کوئی اعمیٰ کہے کچھ پر کہاں وہ تو کہاں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    23 جنوری, 2020

    یہ شب و روز جو اک بے کلی رکھی ہوئی ہے

    ایک اردو غزل از جلیل عالی
    16 جنوری, 2020

    وہ سامنے تھا پھر بھی

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    7 مئی, 2020

    بساط وقت پہ صدیوں کے فاصلے ہم لوگ

    خورشید رضوی کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    کافی تھا یہ کہنا ہی

    ایک اردو غزل از ناصر ملک
    20 دسمبر, 2019

    دل میں رکھے ہوئے

    سعود عثمانی کی ایک اردو غزل
    5 اپریل, 2022

    وفاؤں کے پیچھےجفاؤں کے پیچھے

    ایک اردو غزل از شازیہ طارق
    1 دسمبر, 2019

    حال نہیں کچھ کھلتا میرا

    بہادر شاہ ظفر کی اردو غزل
    5 جنوری, 2025

    حسن فانی ہے جوانی کے

    ممتاز گورمانی کی ایک اردو غزل
    8 نومبر, 2025

    پیغام ضروری کبھی الہام ضروری

    ایک اردو غزل از فارحہ نوید
    31 مئی, 2024

    دکھ میں جلتے ہیں کبھی

    اکرم کنجاہی کی ایک اردو غزل
    11 نومبر, 2025

    کوئی یقین نہ رکھتا فقط گماں رکھتا

    علی کوثر کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button