20 مارچ, 2026

    نہ جانے کیا سے کیا مجھ کو

    سرفراز آرش کی ایک اردو غزل
    6 جنوری, 2020

    اے شب ہجر

    سلیم کوثر کی ایک اردو غزل
    21 جون, 2020

    تم کب تھے قریب اتنے میں کب دور رہا ہوں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    29 جون, 2020

    درونے کو کوئی آہوں سے یوں کب تک ہوا دیوے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    18 ستمبر, 2022

    مکاں سے ہوگا کبھی لا مکان سے ہوگا

    تیمور حسن تیمور کی ایک اردو غزل
    28 جنوری, 2020

    اپنی طرف سے مجھ کو وہ برباد کر گیا

    ایک اردو غزل از اویس خالد
    28 جنوری, 2020

    جُستجُو کے کسی جہان میں ہے

    ایک اردو غزل از محمود کیفی
    19 جنوری, 2020

    یہ سچ ہے میں نے

    ایک اردو غزل از ایوب صابر
    29 نومبر, 2020

    سخن سنورتا رہا اور چراغ جلتا رہا

    سید کامی شاہ کی ایک اردو غزل
    14 نومبر, 2021

    پورا جنگل ہی اشتعال میں ہے

    ایک اردو غزل از علی زیرک
    24 فروری, 2022

    چاکِ خیال جوڑ کے کچھ اور ہی بنا

    صابر رضوی کی ایک اردو غزل
    19 نومبر, 2021

    دُعا عَرِیضۂ خوشبُو ہوئی چراغ بَکَف

    ایک غزل از عامر ابدال
    12 جنوری, 2026

    میں کئی برسوں سے تیری

    ارم زہرا کی ایک اردو غزل
    18 نومبر, 2020

    پیٹیے مت لکیر, اکٹھے ہیں

    ایک اردو غزل از ارشاد نیازی

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button