16 اپریل, 2023

    فکر کو باندی بنانے سے رہا

    ماجد جہانگیر مرزا کی ایک اردو غزل
    15 جون, 2020

    گریز قصے کا گمشدہ داخلی سرا ہے

    ذوالقرنین حسنی کی اردو غزل
    28 اکتوبر, 2020

    درد ہونٹوں میں جو دبا رہے گا

    ناہید ورک کی اردو غزل
    21 جون, 2020

    آپ کی یا جہاں کی بات کریں

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    7 جنوری, 2020

    اب فیصلہ کرنے کی

    سلیم کوثر کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2025

    قلم کی نوک پہ رکھوں گا

    ممتاز گورمانی کی ایک اردو غزل
    2 نومبر, 2025

    نہیں کچھ اور تو اپنے قریں پہنچ سکتے

    شاہد ماکلی کی ایک اردو غزل
    17 جنوری, 2025

    وقت کی قید میں

    منزّہ سیّد کی ایک غزل
    4 نومبر, 2021

    وقت کی جو پیروں میں بیڑیاں نہیں ہوتیں

    ایک اردو غزل از حسن فتحپوری
    4 نومبر, 2025

    آج آیا ہے وہی شخص مٹانے مجھکو

    افضل شریف صائم کی ایک اردو غزل
    30 نومبر, 2021

    اڑ گیا عشق، کہا کیسے نہیں کھلتا در

    کلیم باسط کی ایک اردو غزل
    25 اکتوبر, 2025

    ہم نے دشتِ شوق میں یوں

    شاہ محمود جامؔی کی ایک اردو غزل
    31 دسمبر, 2019

    عجب مذاق رَوا ہے

    عمران عامی کی ایک اردو غزل
    19 اکتوبر, 2019

    گنگناتے ہوئے جذبات کی آہٹ پا کر

    ایک غزل از وصی شاہ
    19 جنوری, 2020

    یہ وحشت ناک منظر کی جھلک محسوس ہوتی ہے

    ایک اردو غزل از ایوب صابر

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button