13 جون, 2020

    کہاں کہاں نہ تصور نے دام پھیلائے

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    22 دسمبر, 2024

    سرخی میں جذب لمحے

    شاکرہ نندنی کی ایک اردو غزل
    28 جون, 2020

    آہ روکوں جانے والے کس طرح گھر کے ترے

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 مارچ, 2025

    مری جاں !

    علی زریون کی ایک اردو نظم
    11 جولائی, 2021

    اک بے وفا کی یاد سے لڑتے ہوئے مرے

    جاوید مہدی کی ایک اردو غزل
    16 مئی, 2020

    بات نکلی تو پھر دور تک جاٸےگی

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    5 جون, 2017

    شہر سنسان ہے کدھر جائیں

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    8 مئی, 2020

    نہر کنارا بھاتا ہے

    مبشر سعید کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    گزرے ہوئے طویل زمانے کے بعد بھی

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    6 جون, 2020

    پاوں سنبھلے ہیں تو گل پوش بھی یاد آتا ہے

    ایک اردو غزل از عاطف کمال رانا
    3 جنوری, 2020

    آنکھوں میں‌ تیری بزمِ تماشا لئے ہوئے

    ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی
    27 جون, 2020

    کوچے میں تیرے میر کا مطلق اثر نہیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    8 جون, 2024

    کوئی صاف صاف دکھتا ہے

    غلام عباس ساغر کی ایک اردو غزل
    12 دسمبر, 2021

    پہلے صدمات بھی بھلانے ہیں

    ارشاد نیازی کی ایک اردو غزل
    25 جون, 2020

    جوں ابرقبلہ دل ہے نہایت ہی بھر رہا

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button