- Advertisement -

آہ روکوں جانے والے کس طرح گھر کے ترے

میر تقی میر کی ایک غزل

آہ روکوں جانے والے کس طرح گھر کے ترے
گاڑ دیویں کاش مجھ کو بیچ میں در کے ترے

لالہ و گل کیوں نہ پھیکے اپنی آنکھوں میں لگیں
دیکھنے والے ہیں ہم تو رنگ احمر کے ترے

بے پرو بالی سے اب کے گوکہ بلبل تو ہے چپ
یاد ہیں سب کے تئیں وے چہچہے پر کے ترے

آج کا آیا تجھے کیا پاوے ہم حیران ہیں
ڈھونڈنے والے جو ہیں اے شوخ اکثر کے ترے

دیکھ اس کو حیف کھا کر سب مجھے کہنے لگے
واے تو گر ہیں یہی اطوار دلبر کے ترے

تازہ تر ہوتے ہیں نوگل سے بھی اے نازک نہال
صبح اٹھتے ہیں بچھے جو پھول بستر کے ترے

مشک عنبر طبلہ طبلہ کیوں نہ ہو کیا کام ہے
ہم دماغ آشفتہ ہیں زلف معنبر کے ترے

جی میں وہ طاقت کہاں جو ہجر میں سنبھلے رہیں
اب ٹھہرتے ہی نہیں ہیں پائوں ٹک سر کے ترے

داغ پیسے سے جو ہیں بلبل کے دل پر کس کے ہیں
یوں تو اے گل ہیں ہزاروں آشنا زر کے ترے

کوئی آب زندگی پیتا ہے یہ زہراب چھوڑ
خضر کو ہنستے ہیں سب مجروح خنجر کے ترے

نوح کا طوفاں ہمارے کب نظر چڑھتا ہے میر
جوش ہم دیکھے ہیں کیا کیا دیدئہ تر کے ترے

میر تقی میر

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
میر تقی میر کی ایک غزل