22 جون, 2020

    اک آئینہ نظر میں سما کر چلا گیا

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    14 ستمبر, 2025

    جو حرص میں پڑے ہیں

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    18 اپریل, 2020

    کٹ رہی ہے زندگی درد کا سماں لیے

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    31 مئی, 2020

    ﻣﯿﺎﻥ_ ﻻﻟﮧ ﻭ ﮔﻞ ﺳﺮﺥ ﺭﻭ ﻋﻼﺣﺪﮦ ہے

    ڈاکٹر وحید احمد کی ایک غزل
    4 جنوری, 2020

    کہیں تو گرد اُڑے

    گلزار کی ایک اردو غزل
    17 اپریل, 2026

    جو لکھنے کو قلم رکھنا

    از پروفیسر اویس خالد
    8 نومبر, 2025

    میں نے بدل کے دیکھ لیا ہے مزاج تک

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    20 مئی, 2020

    ہمنشیں! پوچھ نہ مجھ سے کہ محبت کیا ہے

    ایک اردو غزل از احسان دانش
    27 جون, 2020

    چلے ہے باغ کی صبا کیا خاک

    میر تقی میر کی ایک غزل
    21 مئی, 2020

    میگها رت کی رات، خموشی

    ڈاکٹر اسد نقوی کی ایک اردو غزل
    10 اگست, 2025

    ترے آنے کا دھوکا سا رہا ہے

    ایک اردو غزل از ناصر کاظمی
    6 نومبر, 2022

    اُگا سَبزہ دَر و دِیوار پر آہِستَہ آہِستَہ

    ایک غزل از منیر نیازی
    27 نومبر, 2019

    رو رو کے کیا ابتر

    میر حسن کی اردو غزل
    27 جون, 2020

    کچھ نہ پوچھو بہک رہے ہیں ہم

    میر تقی میر کی ایک غزل
    6 اپریل, 2020

    من جس کا مولا ہوتا ہے

    علی زریون کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button