25 مارچ, 2025

    ﺍﺷﮏِ ﺭﻭﺍﮞ ﮐﯽ ﻧﮩﺮ ﮨﮯ

    ایک غزل از منیر نیازی
    18 نومبر, 2020

    آنکھ میں رَتجگا تو ہے ہی نہیں

    ایک اردو غزل از شبیرنازش
    31 مارچ, 2020

    جو مہکا رہے تیری یاد سہانی میں

    بینا گوئندی کی ایک اردو غزل
    16 مارچ, 2026

    ہم نے مانا اس زمانے میں

    سیّد اقبال عظیم کی ایک اردو غزل
    4 نومبر, 2021

    یقین رکھ اپنے حوصلوں پر

    ایک اردو غزل از حسن فتحپوری
    16 جنوری, 2020

    چوٹ ہر گام پہ کھا کر جانا

    شکیب جلالی کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    اک ہنر دیدۂ خوش آب میں رکھا ہم نے

    اختر عثمان کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    قیامت مجھ پہ سب اس کا

    اردو غزل از میر حسن
    13 جون, 2020

    غلط نہیں ہے کسی کو یہ مشورہ دینا

    کاشف حسین غائر کی ایک اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    تھک ہار کے بیٹھی ہوں

    ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
    8 جون, 2020

    تاج محل

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    7 جنوری, 2020

    عشووں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے

    ایک اردو غزل از اصغر گونڈوی
    27 جون, 2020

    اب اسیری سے بچیں تو دیکھیں گے گلشن کبھو

    میر تقی میر کی ایک غزل
    10 اکتوبر, 2025

    وحشتوں کا نصاب تھوڑی ہے

    فرحانہ عنبر کی ایک اردو غزل
    17 جون, 2020

    حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں

    قابل اجمیری کی اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button