- Advertisement -

آ گیا ہر رنگ اپنا سامنے

باقی صدیقی کی ایک اردو غزل

آ گیا ہر رنگ اپنا سامنے
کارواں اک آ کے ٹھہرا سامنے

کہہ نہیں سکتے محبت میں سراب
دیر سے ہے ایک دریا سامنے

کٹ رہا ہے رشتہ قلب و نظر
ہو رہا ہے اک تماشا سامنے

دل ہے کچھ نا آشنا، کچھ آشنا
تو ہے یا اک شخص تجھ سا سامنے

فاصلہ در فاصلہ ہے زندگی
سامنے ہم ہیں نہ دنیا سامنے

کس نے دیکھا ہے لہو کا آئنہ
آدمی پردے میں سایہ سامنے

اپنے غم کے ساتھ باقیؔ چل دئیے
ہے سفر شام و سحر کا سامنے

باقی صدیقی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

سلام اردو سے منتخب سلام
باقی صدیقی کی ایک اردو غزل