آپ کا سلاماردو غزلیاتشعر و شاعریماوٰی سلطان

لہجۂِ یار میں نشتر بھی تو ہو سکتا ہے

ماوٰی سلطان کی ایک اردو غزل

لہجۂِ یار میں نشتر بھی تو ہو سکتا ہے
یہ تماشا سرِ محشر بھی تو ہو سکتا ہے

یہ جہاں لمحۂِ موجود کے پردے پہ بنا
وقت کی آنکھ کا منظر بھی تو ہو سکتا ہے

اس میں شامل جو کبھی کن کی صدا ہو جائے
لفظ تکمیل کا منتر بھی تو ہو سکتا ہے

سب مسالک کے خداؤں کا پتا بتلاؤ
یہ تقاضا سرِ منبر بھی تو ہو سکتا ہے

یہ بھی ممکن ہے تجھے چھوڑ دے وہ رستے میں
ہم سفر کوئی ستم گر بھی تو ہو سکتا ہے

جنگ بندی کے لیے شہ نے چنا ہے جس کو
اپنے اوصاف میں لشکر بھی تو ہو سکتا ہے

عشق میں عجز بھی لازم ہے مگر یاد رہے
میرے جیسا کوئی خود سر بھی تو ہو سکتا ہے

#ماوٰی_سلطان
ماوٰی
ثبوت کیسے ملے راستوں کی مشکل کا
ہمارے پاؤں کے نیچے زمین تھی ہی نہیں

زہے نصیب ہمیں وصل کی نوید ملی
کہ زندگی کسی صورت حسین تھی ہی نہیں

ماوٰی سلطان

post bar salamurdu

ماوٰی سلطان

بنیادی طور پر حافظ آباد سے ہیں لیکن آج کل مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button