اداس و مایوس بام و در اور اجاڑ آنگن ،
اب اُن فرشتوں کے منتظر ہیں
یہ دل شکستہ یہ دل گرفتہ خموش رستے انہی فرشتوں کے ننّھے قدموں کی آہٹوں کو پکارتے ہیں ،
جو اپنے بستوں میں خواب لے کر ، قلم دوات و کتاب لے کر ،
کبھی یہاں پر ٹہل رہے تھے،
یقیں کے قدموں سے چل رہے تھے ،
یہ کیسی سفّاک کالی آندھی چلی کہ جس نے،
شگفتہ پھولوں کی پتّی پتّی بکھیر دی ہے ،
یہ کیسے شعلے اٹھے ہیں جس میں گلاب چہرے جھلس گئے ہیں ،
چمکتی آنکھوں میں کس نے بارود بھر دیا ہے ،
لہو میں لتھڑے ہوئے یہ بستے،
بریدہ شانوں کو تک رہے ہیں ،
دریدہ خوابوں پھٹی کتابوں کو تک رہے ہیں ،
انہیں بتاؤ
ازل سے ظلمت نژاد لوگوں کا یہ چلن ہے ،
کہ زندگی کی کتاب کو بے اُصول لفظوں سے پاٹ ڈالیں،
یہ زندگی سے امید کی ہر کرن مٹا دیں ،
یقیں کے ہاتھوں کو کاٹ ڈالیں ،
یہ ننّھے بستوں میں آرزوؤں کے سارے خوابوں کو دفن کردیں ،
اصول و اخلاق سب ہٹا کر
یہ جیفری ایپسٹین بھر دیں
طارق قمر








