اردو غزلیاتشعر و شاعریناہید ورک

ہوا چپ ہے صدا چپ ہے

ناہید ورک کی اردو غزل

ہوا چپ ہے صدا چپ ہے
مری طرزِ نوا چُپ ہے
کوئی مجھ کو بتائے تو
یہ کیوں ساری فضا چپ ہے
اُسی سے مانگنا ہے سب
مگر میری دُعا چپ ہے
ہے اک دریا اِن آنکھوں میں
پہ رونے کی ادا چپ ہے
دریچے تو کھُلے ہیں سب
مگر پھر بھی ہوا چپ ہے
مرے دکھ درد جو سمجھے
وہی میرا خُدا چپ ہے

ناہید ورک

post bar salamurdu

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سلام اردو سے ​​مزید
Close
Back to top button