ہماری ابتدا ہونے سے پہلے
یہاں کیا کچھ ہوا ہونے سے پہلے
یہ مٹی یوں ہی اڑتی پھر رہی تھی
مری نشو و نما ہونے سے پہلے
یہ خد و خال میرے تو نہیں ہیں
تو مجھ کو دیکھتا ہونے سے پہلے
نکل جاتے ہیں محور سے ستارے
کوئی بھی حادثہ ہونے سے پہلے
میں کیسی آگ میں رکھا ہوا تھا
زمیں کی خاک کا ہونے سے پہلے
وہ لڑکی خوبصورت کب تھی اتنی
دھنک کا شائبہ ہونے سے پہلے
کسی دریا میں تھا عدنان سرمد
میں صحرا کی سزا ہونے سے پہلے
عدنان سرمد








