اردو نظمجمیل الدین عالیشعر و شاعری

میرا جی صاحب

جمیل الدین عالی کی ایک اردو نظم

”میرا جی کو ماننے والے کم ہیں لیکن ہم بھی ہیں
فیضؔ کی بات بڑی ہے پھر بھی اب ویسا کون آئے گا”

تزئین سخن کی فکر نہ کر بے ساختہ چل
اٹھ آنکھیں مل

وہ کامل دیوان آ ہی گیا
دنیا بھر کو دہلا ہی گیا

ہاں مان لیا پر بحر کا کیا بدلے بدلی ہر بحر بدلنے والی ہے
جس رو میں سمندر لاکھ بھرے وہ رو پھر چلنے والی ہے

جب ہم نے پڑھا کب چون میں کئی نئے تو ان کو پہچانے
کچھ سکہ بند ترقی پسند اس جرأت پر بھی برا مانے

اور ہم سے ہو گئے بیگانے
یوں بھی کوئی ہم کو کیا جانے

اور جب یہ چھپا اٹھاؤں میں تو فیضؔ بہت ہی آگے تھے
جیلیں افسانے مجموعے

کچھ ایسا رعب ہوا قائم سب ان کے جلو میں بھاگے تھے
ہم جیسے بھی ان کے ملبوسات میں کچے پکے دھاگے تھے

پھر وقت کا پلڑا صرف سیاست اور تشہیر میں جھول گیا
دو چار پرانے جمے رہے پر میراجیؔ کو ایک زمانہ بھول گیا

کم اہل سخن کم اہل نظر کو یاد رہا
کوئی میراجیؔ بھی شاعر تھا

وہ پاکستان نہیں آئے
کیسے آتے

کوئی عشق کے زور پہ بلواتا تو آ جاتے
بمبئی میں ننگے بھوکے اور بیمار رہے

واں اخترالایمان ہی ان کے دوست مربی خادم بستر مرگ اور قبر تلک غم خوار رہے
یاں ان کے صاحب قوت چاہنے والے بھی دو وقت کی روٹیاں دینے کو بلوا نہ سکے

یہ اپنے اپنے ضمیر پہ ہے کیا کہوائے اور اب بھی کیا کہوا نہ سکے
آسان ترین بیاں یہ ہوگا بلوایا پر آ نہ سکے

اور اب ان کا دیوان چھپا
دوبارہ وہی دربار سجا

کیا گہرا چوڑا دریا ہے
کن کن سمتوں میں بہتا ہے

جگ بھر سے خزانے لیتا ہے
جگ بھر کو کو خزانے دیتا ہے

کیا اس میں سفینے بہنے لگے
سب ان کو قصیدے کہنے لگے

اب فیضؔ بھی ہیں اور راشدؔ بھی
وہ بہت بڑے پر میراجیؔ

ہاں میراجیؔ وہ چمکتے ہیں
کیا کیا ہیرے کیا کیا موتی کس شان کے ساتھ دمکتے ہیں

اے یار غیاب مجید امجدؔ
خاموش شکار رشک و حسد

بے تشہیری کے صید زبوں
کب جھنگ میں آ کر تجھ سے کہوں

لے وہ سچ واپس آیا ہے
جو جس کا حق ہو ایک نہ ایک دن اس نے پورا پایا ہے

post bar salamurdu

سائٹ منتظم

’’سلام اردو ‘‘،ادب ،معاشرت اور مذہب کے حوالے سے ایک بہترین ویب پیج ہے ،جہاں آپ کو کلاسک سے لے جدیدادب کا اعلیٰ ترین انتخاب پڑھنے کو ملے گا ،ساتھ ہی خصوصی گوشے اور ادبی تقریبات سے لے کر تحقیق وتنقید،تبصرے اور تجزیے کا عمیق مطالعہ ملے گا ۔ جہاں معاشرتی مسائل کو لے کر سنجیدہ گفتگو ملے گی ۔ جہاں بِنا کسی مسلکی تعصب اور فرقہ وارنہ کج بحثی کے بجائے علمی سطح پر مذہبی تجزیوں سے بہترین رہنمائی حاصل ہوگی ۔ تو آئیے اپنی تخلیقات سے سلام اردوکے ویب پیج کوسجائیے اور معاشرے میں پھیلی بے چینی اور انتشار کو دورکیجیے کہ معاشرے کو جہالت کی تاریکی سے نکالنا ہی سب سے افضل ترین جہاد ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button