26 جون, 2020

    مت آنکھ ہمیں دیکھ کے یوں مار دیا کر

    میر تقی میر کی ایک غزل
    8 مئی, 2020

    بے وفا روبرو تجھے دیکھوں

    حسیب بشر کی ایک غزل
    15 دسمبر, 2019

    وہ آنکھ جس کو گہر کی تلاش رہتی ہے

    ملک عتیق کی ایک غزل
    2 نومبر, 2021

    آئینہ اپنے روبرو کر کے

    ایک اردو غزل از شازیہ طارق
    26 جون, 2020

    بندھا رات آنسو کا کچھ تار سا

    میر تقی میر کی ایک غزل
    17 دسمبر, 2019

    اس اپنی کرن کو آتی ہوئی

    مجید امجد کی ایک اردو غزل
    14 مئی, 2024

    وہ قلم سے اٹھی نوا لکھے گا

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    29 اپریل, 2020

    جتنا بھی ہو گہرا پیار سہیلی سے

    ایک اردو غزل از منزّہ سیّد
    29 مئی, 2020

    تم سے ملنا دوبارہ ہوگا نہیں

    تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
    4 مئی, 2020

    اس کو جو کچھ بھی کہوں

    عابِد ملک کی ایک اردو غزل
    30 اگست, 2026

    ترش لہجے میں سخت بو لتا ہے

    وصال عباسی کی ایک اردو غزل
    5 جنوری, 2026

    اس ادا سے مجھے سلام کیا

    آصف الدولہ کی ایک اردو غزل
    2 جون, 2026

    ممکن نہیں ہے جبر کی بیعت روا مجھے

    میثم علی آغا کی ایک اردو غزل
    12 اکتوبر, 2025

    ہر یاد کے پہلو میں کوئی زخم چھپا ہے

    ثوبیہ راجپوت کی ایک اردو غزل
    3 نومبر, 2021

    ہوتی ہے شمعِ عشق فروزاں کبھی کبھی

    ایک اردو غزل از سیّدہ منوّر جہاں منوّر

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button