9 اپریل, 2023

    اب آستیں میں اپنی کوٸی مار نہیں ہے

    ڈاکٹر الیاس عاجز کی ایک غزل
    19 مارچ, 2022

    ہاتھوں میں کشکول اُٹھا کر رقص کیا

    ایک اردو غزل از عمر اشتر
    30 نومبر, 2019

    ہوا ہوں نیند سے بیدار حیرانی اٹھا کر میں

    ایک اردو غزل از بلال اسعد
    20 جون, 2020

    لہر حالات کی اک زیر زمیں ہوتی ہے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    29 مئی, 2020

    بتا کہ راہِ وفا میں کوئی سوار دیکھا

    عدیم ہاشمی کی اردو غزل
    8 جنوری, 2025

    گل بدن خاک نشینوں سے

    ممتاز گورمانی کی ایک اردو غزل
    27 اپریل, 2025

    ہائے وہ وقت جدائی کے ہمارے آنسو

    ایک غزل از حکیم ناصر
    23 اگست, 2020

    تیرے چہرے کی تلاوت کی ہے

    تجدید قیصرکی ایک اردو غزل
    10 اکتوبر, 2025

    خاموشیوں کے بانے مجھے

    منزہ انور گوئندی کی ایک اردو غزل
    19 جولائی, 2025

    اپنے اندر تُو چھپی

    محمد نعیم کی اردو غزل
    20 جنوری, 2024

    اپنی وحشت پہ رو رہا ہوں میں

    سرفراز آرش کی ایک اردو غزل
    3 دسمبر, 2019

    عِشق نے حُسن کی بیداد

    حفیظ جالندھری کی اردو غزل
    15 دسمبر, 2024

    بتوں کی آنکھ میں کیا خواب

    صوفیہ بیدار کی ایک اردو غزل
    31 مئی, 2024

    کبھی شاخوں پہ بیٹھیں گے

    اکرم کنجاہی کی ایک اردو غزل
    2 مئی, 2020

    گزرے لمحات کا احساس ہوا جاتا ہے

    افروز عالم کی ایک اردو غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button