20 جون, 2020

    دل کے ہر داغ کو غنچہ کہیے

    باقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    28 نومبر, 2019

    نظروں میں اُس نے مجھ سے

    میر حسن کی اردو غزل
    9 جون, 2020

    فن کار

    ساحرؔ لدھیانوی کی اردو نظم
    14 ستمبر, 2025

    میں سوچتی ہوں کہ

    کومل جوئیہ کی ایک اردو غزل
    20 نومبر, 2019

    ستم سکھلائے گا

    ایک اردو غزل از فیض احمد فیض
    14 جون, 2020

    پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گے

    حفیظ ہوشیارپوری کی اردو غزل
    10 مارچ, 2025

    میں غزل ہوں مجھے جب آپ

    ایک اردو غزل از لتا حیا
    27 جون, 2020

    کرتے ہیں جوکہ جی میں ٹھانے ہیں

    میر تقی میر کی ایک غزل
    14 مئی, 2024

    کیا ہے جو نہ سمجھے

    ناصر زملؔ کی ایک اردو غزل
    20 جون, 2020

    میری فغاں کو باب اثر کی تلاش ہے

    اقی صدیقی کی ایک اردو غزل
    27 جون, 2020

    عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع

    میر تقی میر کی ایک غزل
    10 فروری, 2020

    پھر ہوا وقت کہ ہو

    ایک اردو غزل از مرزا غالب
    25 اپریل, 2020

    اسلوبِ بد دُعا نہ دُھائی کا رنگ ھے

    عارف امام کی اردو غزل
    23 دسمبر, 2025

    آنکھوں میں بس کے دل میں

    جگر مراد آبادی کی ایک اردو غزل
    30 جون, 2020

    نہ گلشن میں چمن پر ان نے بلبل تجھ کو جا دی ہے

    میر تقی میر کی ایک غزل

    اردو غزلیات

    غزل ایک مقبول ترین صنفِ شاعری ہے۔ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنا ۔ یا پھرعورتوں کے متعلق باتیں کرنا ہیں۔ہرن کے بچے کے منہ سے نکلنے والی درد بھری آواز کو بھی غزل کا نام دیا جاتا ہے۔قیس رازی نے العجم میں غزل کے سلسلے میں یہ نشاندہی کی ہے کہ لفظ غزل دراصل غزال سے ہے۔ ڈاکٹر سٹن گاس نے کہا ہے کہ غزل سے مراد سوت کاتنے کے ہیں۔
    غزل ایک ایسی صنفِ سخن ہے جو چند اشعار پر مشتعمل ہو۔ اس کا ہر شعر ہم قافیہ و ہم ردیف ہوتا ہے۔ ردیف نہ ہونے کی صورت میں ہم قافیہ ہوتا ہے۔ پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوں مطلع جبکہ آخری شعر جس میں تخلص اسرعمال ہوتا ہے مقطع کہلاتا ہے۔ غزل کا ہر شعر ایک مستقل اکائی کی حیثیت رکھتا ہے۔کیونکہ اس کے ہر شعر میں الگ ہی مفہوم باندھا جاتا ہے۔بعض اوقات ایک پوری غزل بھی ایک مضمون پر مبنیٰ ہو سکتی ہے۔ غزل ایک بحر میں لکھی جاتی ہے ۔

    Back to top button